Phone Number

+1416-778-1390

Our Location

2155 Lawrence Ave East Toronto M1R 5G9

Our Location

1217 Barnswallow Court Mississauga L5V 2J6

ہومیوپیتھک میں تاثیری مزاجوں کی کیا اہمیت ہے

ہومیوپیتھک میں مزاجوں کی اہمیت اور ادویہ کا درست انتخاب ہومیوپیتھک علاج میں مزاجوں کی اہمیت ہومیوپیتھی کا طریقہ علاج “علاج بالمثل” کے اصول پر قائم ہے اور اس میں ہومیوپیتھک میں مزاجوں کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ بہت سے ماہرین کا ماننا ہے کہ ہومیوپیتھک ادویات کے بھی اپنے مزاج ہوتے ہیں، اور کامیاب علاج کے لیے مریض کے مزاج اور دوا کے مزاج کا ایک جیسا ہونا ضروری ہے۔ اس بلاگ میں ہم اسی نظریہ پر تفصیل سے بات کریں گے۔ مزید معلومات کے لیے ہومیوپیتھی کے اصول کے بارے میں پڑھیں۔ ہومیوپیتھک ادویہ اور ان کے مزاج کی دلیل ہومیوپیتھک ادویات مادہ اشیاء سے بنتی ہیں، اور چونکہ دنیا کی ہر مادہ چیز کا ایک مخصوص مزاج ہوتا ہے، لہٰذا یہ منطقی ہے کہ ان سے بننے والی ہومیو ادویہ کا بھی مزاج ہو گا۔ یہ تمام ادویہ کچھ گرم، کچھ تر، اور کچھ خشک مزاج کی ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر: مشہور دوا سلفر گندک سے بنتی ہے، جس کا مزاج گرم خشک ہے۔ اس لیے سلفر صرف اس وقت دی جانی چاہیے جب مریض کا مزاج گرم خشک ہو، جیسے کہ گرمی دانے اور پیلا یرقان۔ نکس وامیکا کچلہ سے بنی ہے، جس کا مزاج خشک گرم (عضلاتی غدی) ہے۔ آرسنک البم سم الفار سے بنتی ہے، جس کا مزاج خشک سرد (عضلاتی اعصابی) ہے۔ لیکسس ایک سانپ کے زہر سے بنتی ہے جس کا مزاج خشک گرم ہوتا ہے۔ مرک سال پارہ سے بنتی ہے، جس کا مزاج تر خشک (بلغمی) ہے۔ دوا اور مریض کی مخصوص علامات کا کردار ہومیوپیتھک ادویات کے مزاج کے ساتھ ساتھ ہر دوا کی اپنی مخصوص علامات بھی ہوتی ہیں، جو درست دوا کے انتخاب میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ان علامات کا درست اعتبار کیے بغیر دوا صحیح اثر نہیں کرے گی۔ ایک ہومیوپیتھک معالج پر لازم ہے کہ وہ دوا دیتے وقت دوا کے مزاج اور مریض کی علامات دونوں کو مدنظر رکھے۔ اگر مزاج کے خلاف دوا دی جائے تو فائدہ ناممکن ہے اور نقصان کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے۔ مزاج کے خلاف دوا دینے سے کیا ہوتا ہے؟ جب ہومیو دوا کو مزاج کے خلاف استعمال کیا جائے تو اس کے منفی اثرات ظاہر ہو سکتے ہیں۔ کچھ مثالیں یہ ہیں: ہیضہ: ہیضہ کے مریض کا مزاج عضلاتی اعصابی ہوتا ہے اور اس کی دوا کیمفر ہے۔ اگر آپ آئرس دیں گے، جس کا مزاج غدی عضلاتی ہے، تو مریض کی تکلیف بڑھ جائے گی۔ ہائی بلڈ پریشر: قے کے ساتھ بلڈ پریشر ہائی ہو تو مریض کا مزاج غدی عضلاتی ہوتا ہے۔ اس کی دوا آئرس ورسی کولر ہے۔ اگر آپ نکس وامیکا دیں گے تو بلڈ پریشر مزید ہائی ہو جائے گا۔ ملیریا: ملیریا کے مریض کا مزاج عضلاتی اعصابی ہوتا ہے۔ اس کی دوا چائنا ہے، جبکہ اگر آپ سلفر دیں گے تو تکلیف زیادہ ہو گی کیونکہ اس کا مزاج غدی عضلاتی ہے۔ تاہم، اگر آپ غلط دوا دیں لیکن اس کا اور مریض کا مزاج ایک ہو، تو مریض کو نقصان نہیں ہو گا۔ ہومیوپیتھک میں مزاجوں کی اہمیت کا یہی سب سے بڑا فائدہ ہے۔ سورا، سائیکوسس، اور سفلس کی حقیقت ہومیوپیتھی میں تین بنیادی زہروں کا ذکر ہوتا ہے جنہیں سورا، سفلس اور سائیکوسس کہتے ہیں۔ یہ تینوں دراصل تین مختلف مزاجوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی بیماریاں ہیں: سائیکوسس: خشکی کے تعفن سے پیدا ہوتا ہے اور یہ ایک عضلاتی مرض ہے۔ سورا: صفرا کے تعفن سے پیدا ہوتا ہے اور یہ ایک غدی مرض ہے۔ سفلس: بلغم کے تعفن سے پیدا ہوتا ہے اور یہ ایک اعصابی مرض ہے۔ اکثر کتابوں میں یہ غلطی موجود ہے کہ ایک دوا تینوں مرضوں کو ختم کر سکتی ہے، مگر حقیقت میں ہر ہومیو دوا صرف ایک مزاج اور ایک قسم کی بیماری کو ختم کر سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، تھوجا صرف سائیکوسس کو اور سٹافی سیگیریا صرف سفلس کو ختم کرتی ہے۔ ہومیوپیتھک میں دوا کے درست انتخاب کے لیے ضروری باتیں کامیاب ہومیوپیتھک علاج کے لیے تین باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے: مریض اور دوا کا مزاج ایک ہو۔ مریض اور دوا کی علامات بھی ایک ہوں۔ درست پوٹینسی کا انتخاب کیا جائے۔ صرف علامات یا صرف مزاج کا ایک ہونا کافی نہیں ہوتا۔ جب یہ تینوں چیزیں ایک نہ ہوں، دوا کماحقہ اثر نہیں کرے گی۔ یہی وجہ ہے کہ ہومیوپیتھک میں مزاجوں کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ اس موضوع پر مزید تحقیق کے لیے آپ طب یونانی کے اصول کا مطالعہ بھی کر سکتے ہیں۔ تنبیہ: پوٹینسی کے کم یا زیادہ ہونے سے دوا کا مزاج تبدیل نہیں ہوتا، صرف اس کی تاثیر میں کمی بیشی آتی ہے۔