The Importance of Hijama on an Empty Stomach

Understanding Hijama Hijama, or cupping therapy, has been practiced for centuries as a holistic healing method. As recommended in a hadith narrated by Abdullah ibn Umar, the Prophet Muhammad (peace and blessings be upon him) emphasized that hijama is most effective when performed on an empty stomach. This guidance encourages the integration of physical and spiritual well-being. Benefits of Hijama on an Empty Stomach Engaging in hijama while fasting enhances its therapeutic effects. The absence of food in the stomach allows for better circulation and toxin removal from the body. This state is believed to amplify the benefits, leading to improved mental clarity, intellect, and memory, as highlighted in the saying that hijama provides cures and blessings. The process facilitates a deeper release of tension and aids the body’s natural detoxification. Conclusion In summary, performing hijama on an empty stomach is more than just a recommendation; it is a practice rooted in tradition and spiritual significance. By adhering to this method, individuals can unlock the full potential of this ancient therapy, nurturing both their body and mind. Therefore, consider scheduling your next hijama session while observing a fast to fully embrace its benefits.
Hijama in Urdu

حجامہ: ایک جامع گائیڈ حجامہ: ایک قدیم علاج اور جدید سائنسی نقطہ نظر حجامہ عربی زبان کا لفظ ہے جسے اردو میں “پچھنے لگوانا” اور انگریزی میں “Blood Letting” کہا جاتا ہے۔ یہ طریقہ علاج چین میں صدیوں سے رائج ہے اور فی الحال کوریا اور چین میں اس پر سب سے زیادہ تحقیق ہو رہی ہے۔ حجامہ کی تاریخی اور اسلامی اہمیت عرب کے لوگ قدیم زمانے سے حجامہ کرواتے رہے ہیں، اور اسلام کی آمد کے بعد اس کی اہمیت مزید بڑھ گئی۔ ایک موقع پر جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت ناساز ہوئی تو آپؐ نے کندھوں کے درمیان حجامہ کروایا اور فرمایا کہ حجامہ کرنے والا اجرت نہیں مانگے گا، البتہ حجامہ کروانے والا اس کی اجرت ضرور ادا کرے گا۔ آپؐ نے خود بھی حجامہ کرنے والے کو رقم ادا کی تھی۔ اس سلسلے میں متعدد احادیث مبارکہ موجود ہیں جن میں حجامہ کے فوائد، اور اسے کروانے کے بہترین دنوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ حجامہ کروانے کے لیے بہترین دن قمری مہینے کی 17، 19، اور 21 تاریخیں ہیں، اور جدید تحقیق بھی اس کی تائید کرتی ہے۔ چاند کا انسانی جسم پر اثر چاند کی کشش ثقل کا اثر سمندر کی لہروں پر واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے؛ جیسے جیسے قمری تاریخ بڑھتی ہے، سمندر میں لہروں کا ارتعاش بھی بڑھتا ہے۔ چودھویں کی رات کو سمندر کی لہریں عروج پر ہوتی ہیں اور اپنے اندر کی کثافتیں ساحل پر پھینک دیتی ہیں۔ اسی طرح، چاند انسانی جسم پر بھی اثر انداز ہوتا ہے اور خون میں جوش پیدا ہوتا ہے۔ قمری مہینے کی 14 تاریخ کو جسم کی اندرونی کثافتیں جلد کی سطح پر آجاتی ہیں۔ لہٰذا، 17، 19، اور 21 تاریخ کو حجامہ کروانے سے یہ کثافتیں خون سے نکل جاتی ہیں اور انسان جلد صحت مند ہو جاتا ہے۔ ہمارا جگر خون پیدا کرنے کا ذمہ دار ہے۔ خون کے خلیے (Leukocytes) کی عمر عموماً 45 دن ہوتی ہے اور یہ عمل ہمارے جسم میں مسلسل جاری رہتا ہے۔ شہری اور دیہی ماحول میں چاند کے اثرات اکثر یہ سوال کیا جاتا ہے کہ شہروں میں رہنے والے افراد چاند کے گھٹنے اور بڑھنے کا اثر محسوس کیوں نہیں کرتے؟ اس کی وجہ شہروں میں بجلی کا بے پناہ استعمال ہے۔ گھروں میں ٹی وی، فریج، ایئر کنڈیشنر، کمپیوٹر، مائیکرو ویو، اور لیپ ٹاپ جیسی اشیاء جبکہ گھر کے باہر اسٹریٹ لائٹس اور سب وے کا نظام ہر وقت “الیکٹرو میگنیٹک فیلڈ” پیدا کرتا ہے، جس کے ماحول میں ہم رہتے ہیں، اس لیے ہم پر چاند کی کشش ثقل کا اثر براہ راست محسوس نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس، دیہاتوں اور کھلی فضا میں چاند کے اثرات دنوں تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ وہاں انسان خصوصی طور پر متاثر ہوتا ہے؛ جذبات امڈ امڈ کر آتے ہیں اور جذباتی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ آپ اپنے اندر ایک بڑی تبدیلی محسوس کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب قمری مہینے کی 17، 19، اور 21 تاریخ کو خون جوش میں آتا ہے، تو خون کے مردہ خلیے (Dead Leukocytes) جلد کی طرف آ جاتے ہیں اور ان تاریخوں میں حجامہ کروانے سے مریض جلد صحت مند ہو جاتے ہیں۔ جدید تحقیق کے مطابق، خون کے ہر خلیے (Leukocytes) کی عمر تقریباً 45 دن ہوتی ہے۔ اس کے بعد یہ مردہ ہو جاتا ہے اور اس کی جگہ نیا خون کا خلیہ لے لیتا ہے۔ یہ عمل ہمارے جسم میں ہر وقت جاری رہتا ہے۔ اگر یہ مردہ خلیے پیشاب کے راستے خارج نہ ہوں تو یہ جسم میں جمع ہو کر دوران خون میں رکاوٹ پیدا کر سکتے ہیں، جس سے انسان بیمار ہو جاتا ہے۔ حجامہ کے ذریعے ان مردہ خلیوں کو جسم سے نکال کر انسان تندرست ہو جاتا ہے۔ حجامہ کرنے والے افراد کی اقسام اس وقت دو قسم کے لوگ حجامہ کر رہے ہیں: غیر میڈیکل افراد: یہ وہ لوگ ہیں جو ڈاکٹر نہیں ہیں اور انہیں میڈیکل سائنس کے بارے میں زیادہ علم نہیں ہوتا۔ وہ حجامہ سیکھ کر روایتی طریقے سے کندھوں کے درمیان، گردن کے پچھلے حصے پر، اور ٹخنوں کے اوپر حجامہ کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ افراد باقاعدہ تشخیص کے بغیر حجامہ کرتے ہیں اور انہیں بیماریوں کی وجوہات اور نوعیت کا علم نہیں ہوتا۔ وہ صرف اسے سنت سمجھ کر کرتے ہیں، بے شک اس سے فائدہ ہوتا ہے لیکن مکمل طور پر فائدہ نہیں ہوتا۔ باقاعدہ ڈاکٹرز: یہ وہ لوگ ہیں جو ڈاکٹر ہیں اور انسانی جسم کی ایناٹومی، مسلز، اور نروز کو سمجھتے ہیں۔ وہ اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ نروز کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔ چائنیز میڈیسن اور ایکوپنکچر کے ڈاکٹر اس وقت سب سے بہترین اور سب سے زیادہ فائدہ مند حجامہ کر رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ڈاکٹر نبض اور زبان دیکھ کر تشخیص کرتے ہیں کہ مردہ خون کے ذرات (Dead Leukocytes) کس آرگن کے راستے میں رکاوٹ پیدا کر رہے ہیں، اور وہ صرف اسی مقام پر حجامہ کرتے ہیں، جس کے نتائج سب سے بہتر ہوتے ہیں۔ پرانے روایتی طریقے سے حجامہ کرنے والے اور ڈاکٹر سے حجامہ کروانے میں بہت زیادہ فرق ہے۔ روایتی طریقے میں بلیڈ یا نشتر کا استعمال کیا جاتا ہے جس سے جلد کٹ جاتی ہے اور زخم کبھی کبھار گہرا بھی ہو سکتا ہے۔ طب نبویؐ کے مطابق بذریعہ الحجامہ علاج الحجامہ احادیث کی روشنی میں ایک بہترین علاج ہے جس کے متعلق متعدد احادیث آئی ہیں، جن میں سے چند احادیث کا مفہوم درج ذیل ہے: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ “بہترین علاج جسے تم کرتے ہو وہ حجامہ لگانا ہے۔” (بخاری شریف) حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے: جب کوئی سردرد کی شکایت لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو حجامہ کی تلقین کرتے۔ (ابو داؤد) حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا “اپنے خون کی گرمی کو حجامہ سے کم
Hijama On The Head

Hijama (Cupping Therapy): A Holistic Approach to Health & Well-being Hijama (Cupping Therapy): A Holistic Approach to Health & Spiritual Well-being Hijama, an ancient therapeutic practice deeply rooted in tradition, offers profound benefits extending beyond physical ailments to encompass spiritual well-being. This time-honored treatment, also known as cupping therapy, holds particular significance for individuals grappling with Sihr (magic) or Jinn possession, providing a complementary path to healing and relief. Historical accounts, notably from Ibn Al-Qayyim (may Allah have mercy on him), highlight the Prophet Muhammad’s (peace be upon him) personal use of cupping on his head to treat a magical affliction. This serves as a powerful testament to Hijama’s efficacy, which Ibn Al-Qayyim underscored as one of the most potent remedies for magic when performed with precision and adherence to established practices (Zaad al Ma’aad). The Essence of Hijama (Cupping Therapy) Hijama is not merely a remedy; it’s a profound therapeutic approach, highly esteemed and frequently practiced by the Messenger of Allah (peace be upon him) himself. Its fundamental principle lies in its ability to draw out stagnant blood and toxins, thereby stimulating circulation and promoting overall vitality. “Indeed the best of remedies you have is Hijama.”[Saheeh al-Bukhaaree (5371)] Targeting the Head: The Vital DU 20 Point in Hijama Among the various points for Hijama, the DU 20 point, located on the crown of the head, holds exceptional importance. Known as Ummu Mughits or ‘Ala Ro’si (the ‘mother of diseases’), this area is considered crucial because many ailments are believed to originate from it. Consequently, performing Hijama on this specific point can offer therapeutic benefits for a diverse array of conditions, including: Chronic Headaches & Migraines Vertigo and Sinusitis Glaucoma and certain skin conditions like Acne Various Mental Disorders, fostering clarity and balance Beyond its physical applications, Hijama at the DU 20 point is also recognized for its potential to enhance memory and cognitive function, contributing to improved intelligence and mental sharpness. This makes it a truly holistic treatment for both physical health and mental acuity. Hijama On The Head الحجامة على الرأس سر میں پچھنا لگوانا درست ہے حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ، عَنْ عَلْقَمَةَ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجَ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ ابْنَ بُحَيْنَةَ، يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: احْتَجَمَ بِلَحْيِ جَمَلٍ مِنْ طَرِيقِ مَكَّةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ فِي وَسَطِ رَأْسِهِ. ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، ان سے علقمہ نے، انہوں نے عبدالرحمٰن اعرج سے سنا، انہوں نے عبداللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ بیان کرتے تھے